Vol. XVIII · Free shipping $75+ · Read the collection
Feature · Product Review

Mansfield Park Azad hin foj and even airport security

Mansfield Park Azad hin foj and even airport securityPages: 364 Category: English Fanny Price is ten when her poor parents send her to live with Bertrams, their rich relatives at Mansfield Park. The new life, however, has its own disadvantages. Her cousins, save Edmund, mistreat her. Her other aunt, who lives at Mansfield parsonage, treats her worse. Nonetheless, she grows up to be a fine, young lady. Then, one day voguish Mary and Henry Crawford come from London to stay at the parsonage. Their arrival

SKU: 57545482740 · From lcog.de

4.1
USD300.00 USD321.00

Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 29 - Aug 3

Description

and even airport security

اُس وقت میری عمر پانچ چھ برس ہو گی۔ ہمارے گھر کے سامنے سے کچی سڑک گزرتی تھی۔ سڑک کے ساتھ پانی کا نالہ چلتا تھا اور کنارے پر دونوں جانب ٹاہلیوں کے بلند پیڑ تھے۔ ساتھ ہی یونین کونسل کا دفتر تھا۔ اُس میں بھی بےشمار شیشم اور نیم کے درخت تھے۔ سڑک پر پھیری لگانے والے اکثر آواز لگاتے ہوئے گزرتے تھے۔ کھوئے کی قفلی لے لو، گُڑ اور برف کا ٹھنڈا گولا لے لو۔ لال و لال متیرہ لے لو، خاص کر جب قفلی اور گولے کی آواز آتی تو میرے کان کھڑے ہو جاتے، بھاگ کر سڑک پر آ جاتا۔ پیسے اُن دِنوں نہیں ہوتے تھے۔ کبھی کبھار گندم یا آٹا گولے والے کو دے کر برف کا گولا بنوا لیتا۔ سُڑکے لگا لگا کر چوستا اور شیشم کے درختوں کی چھاؤں تلے پانی کے نالے میں پاؤں ڈال کر بیٹھ جاتا۔ جب گولا ختم ہو جاتا تو گھر لوٹتا۔ اگر یہ بھی نہ ہوتا تو فقط قفلی یا گولے والے کو دُور جاتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہوتا گھر میں نہ گھستا تھا۔ یونین کونسل تب مصطفیٰ زیدی نے بنوائی تھی اور اُس میں ایک لائبریری بھی قائم کی تھی۔ اُس وقت وہ ساہیوال کے ڈی سی ہوتے تھے۔ اُس لائبریری میں بچوں اور بڑوں کے لیے بہت سی کتابیں تھیں۔ اکثر اوقات جب مجھے گولا نہ ملتا تو بجائے گھر میں داخل ہونے کے یونین کونسل کی لائبریری میں گُھس جاتا۔ وہاں ابنِ صفی کی عمران سیریز، ٹارزن کی جنگلی مہمیں اور کمانڈوز کی کہانیاں مفت میں مل جاتی تھیں جنھیں پڑھ کر واپس کرنا ہوتا تھا۔ مَیں وہ گھر لے آتا اور اُس کے عوض چوکیدار کو دوپہر کے وقت گھر سے عمدہ دودھ پتی بنوا کر لا پلاتا۔ یہاں سے مَیں نے وہ سارا ادب پڑھا جو بچوں کو پڑھنا چاہیے تھا۔ اے کاش، آج کے بچے پیدا ہوتے ہی جوان نہ ہوتے اور نیٹ کی بجائے کم از کم بیس سال کی عمر تک کتاب ہی سے واسطہ رکھتے تو یقین مانیے وہ آہستہ آہستہ بڑے ہوتے اور یہ بہت فطری ہوتا۔ کیونکہ جلد بڑا ہونے والا جلد رسوا ہوتا ہے۔ (علی اکبر ناطق)

Dubliners presents a hauntingly honest portrait of a city and its people

Born to Brahmin parents after several stillbirths

آج کی نوجوان نسل مبارک باد کی مستحق ہے کہ ہمارے وقتوں کے گھسے پٹے محبت و رومان اور ظالمانہ سماجی رویوں کے غل غپاڑوں سے باہر نکل آئی ہے۔ بدلتے وقت کے نئے چیلنجوں نے موضوعات کا ایک جہان اس کے سامنے کھڑا کردیا ہے جس سے نبٹتے ہوئے وہ اس کے ساتھ پورا انصاف کر رہی ہے۔ دُعا عظیمی کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے یہی نیاپن مجھ پر آشکار ہوا ہے کہ موضوعات میں تنوع اور جدّت کی اس درجہ ہماہمی اور رنگارنگی ہے کہ میری آنکھوں میں حیرت کا جہان امنڈ پڑا۔ بیشتر کہانیاں اور افسانے مکالماتی اسلوب میں لکھے گئے ہیں۔ طرزِ بیان سادہ، دلچسپ اور گہرائی کا حامل ہے۔ اس کے افسانوں میں طوالت نہیں اختصار ہےجو ایک خوش آئند بات ہے۔ عنوان سے لے کر نفسِ مضمون تک ہر رنگ اور ہر پہلو اپنی انفرادیت سے متاثر کرتا ہے۔ بہت دعائیں دُعا عظیمی کے روشن مستقبل کے لیے ۔سلمیٰ اعواندُعا عظیمی کے افسانوں میں محبّت، خواب اور دانائی آپس میں بغل گیر ہو جاتے ہیں۔ ان کے افسانوں کے کرداروں میں ایک ازلی و ابدی تشنگی ہے۔ وہ محبّت کے، چاہت کے اور اپنائیت کے پیاسے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کی قربت میں ارضی جنت تلاش کرتے ہیں، مل کر گیت گاتے ہیں، مسحور ہوتے ہیں، رقص کرتے ہیں اور اس محبّت کی کوکھ سے دائمی رفاقت کے خواب چراتے ہیں۔ دُعا عظیمی کے افسانے بہت سی مشرقی عورتوں کی نفسیات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جوں جوں وہ کردار ذہنی بلوغت کے زینے طے کرتے ہیں وہ دھیرے دھیرے زندگی کی حقیقتوں سے نبردآزما ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ مثالیت پسندی کے خوابوں کے شیش محل سنگین حقائق سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ وہ دانائی کا روپ اختیار کر لیتے ہیں اور مضطرب دل کو پُرسکون بنا دیتے ہیں۔ دُعا عظیمی اپنے من کی گہرائیوں میں اتر کر یہ جاننے لگی ہیں کہ خاموشی، تنہائی اور دانائی پرانی سہیلیاں ہیں۔ اُن کے افسانے اس بات کے گواہ ہیںکہ وہ ان سہیلیوں سے دوستی کر کے اپنے فن کے ساتھ سطحی محبّت سے گہری محبّت کا سفر شروع کر چکی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دُعا عظیمی کی فنِ افسانہ نگاری میں گہرائی و گیرائی پیدا ہو رہی ہے۔ مجھے قوی اُمید ہے کہ اُردو کے افسانہ نگار اِن کے افسانوں کے پہلے مجموعے ’’فریم سے باہر‘‘کو خوش آمدید کہیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔خالد سہیل

Mansfield Park Azad hin foj and even airport securityPages: 364 Category: English Fanny Price is ten when her poor parents send her to live with Bertrams, their rich relatives at Mansfield Park. The new life, however, has its own disadvantages. Her cousins, save Edmund, mistreat her. Her other aunt, who lives at Mansfield parsonage, treats her worse. Nonetheless, she grows up to be a fine, young lady. Then, one day voguish Mary and Henry Crawford come from London to stay at the parsonage. Their arrival

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products